روس نے امریکہ کو بحیرہ اسود میں اشتعال انگیز کارروائیوں اور سرگرمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماسکو میں روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہزاروں کلو میٹر دور بحیرہ اسود میں اپنے جنگی بحری بیڑے کیوں بھیج رہا ہے۔ یہ عالمی سیاست میں مداخلت کا ایک آلہ ہے۔
روس نے خبردار کیا کہ امریکی بحری بیڑے روس کے ساحلوں سے دور رہیں۔ امریکی بحری بیڑوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر روس خٓاموش نہیں بیٹھے گا۔ امریکہ روس کی طاقت آزمانا چاہتا ہے اور ایک اعصابی جنگ چھیڑتا چاہتا ہے۔ امریکہ یہ جنگ روس سے جیت نہیں سکے گا۔
روس نے امریکہ سے کہا ہے کہ سمندر میں کسی مسلح تصادم کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ امریکہ اپنے آپ کو سمندروں کا بادشاہ سمجھنا چھوڑ دے اور برطانیہ سے سبق سیکھے۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے امریکہ کو کرائمیا اور بحیرہ اسود کے ساحلوں سے دور رہنے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ امریکہ کے اپنے مفاد میں کہہ رہے ہیں۔
روس نے کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرائن میں مشترکہ فوجی مشقیں کرتے رہتے ہیں جو روس کی سیکیورٹی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اس سے پہلے کہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرائن کے خلاف کوئی حرکت کرتا ہے تو امریکہ جارحانہ اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر خطے میں یوکراین کی مدد کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان پر روس نے کہا ہے کہ یوکرائن میں روسی زبان بولنے والوں کی حمایت میں جو ہو سکا وہ کیا جائے گا۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا اب تک جو ہو چکا ہے اس کا روس جائزہ لے چکا ہے۔ دوسرا یہ کہ روس نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تیسرا یہ کہ روس کو قیمت اور ادائیگی جیسے الفاظ سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ روس یوکرائن میں روسی زبان بولنے والی اقلیت کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
واضح رہے روس اور یوکرائن کے درمیان دونباس کے معاملے پر حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ اس ہفتے یوکرائن کے صدر ترکی سے مدد مانگنے صدر ایردوان کے پاس بھی پہنچ گئے تھے۔ ادھر امریکہ نے اپنے دو جنگی بحری بیڑوں کو بحیرہ اسود بھجنے کا اعلان کیا ہے۔
