ترکی کی حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت ری پبلکنز پیپلز پارٹی نے صدر ایردوان کے خواتین حقوق کے استنبول کنونشن سے دستبرداری کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حزب اختلاف کی سیکولر سیاسی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلیش ڈار اوغلو نے صدر ایردوان کے فیصلے کو اسٹیٹ کونسل لے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترک آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت صدر ایردوان کا دستبرداری کا فیصلہ آئین سے مخالف ہے۔ ترک آئین انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو بورڈ کا ایک غیر معمولی اجلاس ہفتے کو طلب کیا ہے جس میں استنبول کنونشن سے دستبرداری کے معاملے پر بات کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ استنبول کنونشن سے دستبرداری ترکی کے لئے ایک پریشان کن فیصلہ ہے۔ صدر ایردوان قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ اگر کل کو ترکی میں کسی بھی خاتون پر تشدد کیا جاتا ہے یا اسے ہراساں کیا جاتا ہے یا اس کے جنسی درندگی کی جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار صدر ایردوان ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان مملکت کے امور چلانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ترکی میں فوری طور پر نئے الیکشن کروائے جائیں اور 2023 کے شیڈول انتخابات کا انتظار نہ کیا جائے۔
واضح رہے صدر ایردوان نے 20 مارچ بروز ہفتہ خواتین کے حقوق کے استنبول کنونشن سے ترکی کی دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ترکی میں ہم جنس پرستوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور وہ اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
