فلسطین کی مزاحمتی تنظیم،حماس نے آج چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے حوالے کردیا، جس کا مقصد اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے ایک حصے کے طور پر فائر بندی معاہدے کو برقرار رکھنا تھا۔
رہائی کا یہ عمل غزہ شہر میں پیش آیا، جہاں حماس کے مسلح اہلکاروں نے خواتین کو ایک بڑے ہجوم کے درمیان ایک پوڈیم پر لے جایا اور انہیں حفاظتی حصار میں گھیر لیا۔
قیدیوں کا یہ تبادلہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے اسرائیلی خواتین فوجیوں کو قید میں رکھنے کے بعد کیا گیا ہے۔ حماس نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ، 20 دسمبر کو چار اسرائیلی فوجیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بدلے میں اسرائیل 200 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ اسرائیل نے اس معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ، اسے خواتین قیدیوں کے ناموں کی فہرست موصول ہو گئی ہے۔
اس تبادلے میں شامل اسرائیلی خواتین فوجیوں میں کرینہ ایریف، ڈینیلا گلبوا، ناما لیوی اور لیری الباگ شامل ہیں، جن میں سے الباگ نے قید میں رہتے ہوئے اپنی 19ویں سالگرہ منائی۔ یہ تمام خواتین اب 20 سال کی ہو چکی ہیں۔ حماس کے ترجمان ،ابو عبیدہ نے اس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ،ان خواتین کی رہائی ایک اہم قدم ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کی تکمیل کے لیے ضروری تھا۔
معاہدے کے تحت، اسرائیل نے 200 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے، جن میں سے 70 قیدی غزہ اور مغربی کنارے سے باہر بھیجے جائیں گے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ تبادلہ معاہدہ امریکہ اور قطر کی ثالثی کے تحت طے پایا تھا، جو اس بات کا متفقہ حل تھا کہ ،دونوں طرف کے قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے ،تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
رہائی کے دوران فلسطینیوں کے لیے ایک اور چیلنج بھی موجود ہے، بے گھر خاندان غزہ واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تباہ شدہ مکانات کے ملبے کے درمیان انہیں کوئی ٹھکانہ نہیں مل رہا۔
