میری پہلی ملاقات نجم الدین اربکان مرحوم سے 2006 میں استنبول میں ہوئی۔ پھر 2007 میں اور اس کے بعد جب بھی IIFSO کے کسی اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، ان سے ملاقات لازم ٹھہری۔ ہر ملاقات، ہر نشست گویا ایک تربیتی درسگاہ ہوتی۔ ان کے لہجے میں ٹھہراؤ، نگاہ میں دوربینی اور دل میں امت کا درد جھلکتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک سیاسی رہنما تھے بلکہ ایک فکری رہبر بھی، جن سے ہر بار کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔
ان کی شخصیت مجھے ہمیشہ علامہ اقبال کے اس شعر کی یاد دلاتی رہی:
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
وہ شخص حقیقتاً ایسا تھا جس نے کبھی ہار کو انجام نہ مانا۔ جب بھی ان کی پارٹی پر پابندی لگتی، وہ نئی جماعت بنا کر میدانِ عمل میں آ جاتے، اور اپنے نظریے کی شمع کو دوبارہ روشن کر دیتے۔
ترکیہ کی تاریخ کو جب ہم اس پس منظر میں دیکھتے ہیں تو اربکان کی جدوجہد اور عظمت کا اندازہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد ترکی کو ایک سیکولر ریاست میں بدل دیا گیا۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں مغرب زدگی، دین سے دوری، اور اسلامی شعائر پر سخت پابندیاں نافذ ہوئیں۔ اذان کو ترک زبان میں پڑھنے کا حکم، علماء کی گرفتاری، مدارس کا خاتمہ — سب کچھ اسی منصوبے کا حصہ تھا جو ترکی کو اس کی اصل روح سے جدا کر رہا تھا۔
ایسے میں ایک نوجوان انجینیئر، پروفیسر نجم الدین اربکان، خاموشی سے نظریاتی بنیادوں پر کام کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ترکی کی ترقی کا راستہ مغرب کی غلامی سے نہیں، بلکہ اپنی اسلامی شناخت کو اپنانے سے نکلتا ہے۔ انہوں نے "ملی گورش” یعنی "قومی نقطۂ نظر” تحریک کے ذریعے عوامی شعور بیدار کیا، اور پھر رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھ کر عملی سیاست میں قدم رکھا۔
ان کی سیاست محض اقتدار کا حصول نہ تھی، بلکہ ایک مشن تھا — ترکی کو ایک خودمختار، اسلامی، باوقار ریاست بنانا۔ 1996 میں جب وہ وزیر اعظم بنے تو یہ تاریخ کا ایک نیا موڑ تھا۔ انہوں نے سودی نظام کے خلاف آواز بلند کی، اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کے لیے ڈی-ایٹ (D-8) جیسا فورم قائم کیا، اور ترکی کو مغرب کے زیرِ اثر بلاک سے نکالنے کی کوشش کی۔ مگر طاقتور حلقوں کو یہ سب گوارا نہ ہوا۔ دباؤ بڑھا، استعفیٰ لیا گیا، اور بالآخر ان کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی۔
لیکن اربکان رکے نہیں۔ انہوں نے ایک نئی پارٹی بنائی، نئے ساتھی تیار کیے، اور سب سے بڑھ کر ایک پوری نسل کی تربیت کی۔ رجب طیب اردگان، عبداللہ گل، احمد داؤد اوغلو اور آج کے نعمان کرتلمش — یہ سب اربکان کی نظریاتی نرسری کے پودے ہیں جنہوں نے آگے چل کر ترکی کو ایک نئی سمت دی۔
آج ترکیہ جب عالمی سیاست میں ایک باوقار، جرات مند اور خودمختار ریاست کے طور پر نظر آتا ہے، جب فلسطین، کشمیر اور امت مسلمہ کے مسائل پر اس کی آواز سب سے نمایاں سنائی دیتی ہے، جب ترکیہ دفاعی میدان میں خودکفالت کی منزلیں طے کر رہا ہے — تو پسِ منظر میں نجم الدین اربکان کا خواب، ان کی فکر اور ان کی قربانیاں صاف نظر آتی ہیں۔
انہوں نے صرف جماعتیں نہیں بنائیں، بلکہ ایک سوچ پیدا کی۔ انہوں نے صرف سیاست نہیں کی، بلکہ ایک تربیتی تحریک چلائی۔ وہ جانتے تھے کہ افراد سے بڑھ کر نظریہ زندہ رہتا ہے، اور اسی نظریے نے آج کے ترکی کو نظریاتی، اقتصادی اور سفارتی محاذ پر ایک طاقتور ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔
میری ان سے ہونے والی مختصر ملاقاتیں میرے لیے ہمیشہ ایک قیمتی خزانہ رہیں گی۔ وہ شخصیت جو خود کبھی حکومت میں لمبے عرصے نہ رہی، مگر آج بھی پوری قوم اس کی فکری قیادت کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے — یہ کارنامہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
نجم الدین اربکان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو، وژن واضح ہو اور قربانی کا جذبہ ہو، تو وقت اور حالات کی سازشیں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔ آج کا ترکی ان کے نظریے کی جیتی جاگتی تعبیر ہے — ایک زندہ، باوقار، اور نظریاتی ریاست۔
29مئی 2006 عثمانیوں کے دیس میں ۔ ہمارے مربی اور محسن عبدالغفار عزیز اور سید عبدالرشید بھی ہمراہ تھے۔ یادوں کے حسین دریچوں سے
