ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے قومی ترانے کی منظوری کے 105 برس مکمل ہونے پر قومی شاعر محمد عاکف ارسوئے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ صدر اردوان نے کہا کہ قومی ترانہ صرف آزادی کی علامت نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی بھی دستاویز ہے۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ قومی ترانہ قوم کی مشترکہ اقدار اور ماضی و مستقبل کے وژن کی سب سے جامع علامت ہے اور یہ قوم کی آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ انہوں نے قومی شاعر محمد عاکف ارسوئے کے لیے دعائے مغفرت کی اور اُن پارلیمانی اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ترانے کی منظوری دی تھی۔ صدر نے وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے تمام شہداء، خصوصاً جنگِ آزادی کے شہداء اور غازیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور صدر اور اس باوقار قوم کے ایک فرد کے طور پر اعلان کرتے ہیں کہ قومی ترانے اور آزادی کا دفاع آخری سانس تک کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہو جائیں گے۔
ترکیہ کا قومی ترانہ استقلال مارشی 12 مارچ 1921 کو ترکیہ کی عظیم قومی اسمبلی نے باضابطہ طور پر منظور کیا تھا۔ یہ ترانہ قومی شاعر محمد عاکف ارسوئے نے جنگِ آزادی ترکیہ کے دوران تحریر کیا تھا اور ایک صدی سے زائد عرصے سے ترکی قوم کی آزادی، شناخت اور خودمختاری کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔