اسلام آباد: پاکستان نے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 11 لاکھ 55 ہزار 221 افغان باشندوں کو واپس افغانستان بھیج دیا۔ یہ انکشاف وزارتِ داخلہ اور چیف کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین کے اعلیٰ حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر امور، گلگت بلتستان اور سیفران (SAFRON) کے اجلاس میں کیا۔
حکام کے مطابق واپس بھیجے گئے افغان باشندوں میں ایک لاکھ 63 ہزار 429 پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز، 74 ہزار 943 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز، 5 لاکھ 9 ہزار 671 غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور 4 لاکھ 7 ہزار 178 رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افراد شامل ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت افغان مہاجرین کے 54 کیمپ قائم ہیں، جن میں سے 43 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع ہے۔
اجلاس کے دوران ارکان نے یہ جاننے کی خواہش ظاہر کی کہ کتنے افغان شہری مختلف ادوار میں پاکستان میں داخل ہوئے، اس وقت کتنے مقیم ہیں اور وہ کن علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ سال 2005 سے 2025 تک سال وار اور ضلع وار مکمل اعداد و شمار فراہم کیے جائیں۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ 31 جولائی 2025 کو وزارتِ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی بے دخلی کا حکم دیا گیا۔ بعد ازاں 4 اگست 2025 کو ہونے والے اجلاس میں رضاکارانہ واپسی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی جو یکم ستمبر 2025 تک تھی، جس کے بعد جبری بے دخلی کا عمل شروع ہوا۔
چیف کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین نے صوبائی کمشنریٹس، نادرا اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے تعاون سے رضاکارانہ واپسی مراکز کی استعداد میں اضافہ کیا۔ نادرا کے 11 مراکز کو بھی رضاکارانہ واپسی مراکز میں تبدیل کیا گیا تاکہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر اسد قاسم نے کی جبکہ دیگر اراکین بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان میں سیلاب کے بعد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں 115 ابتدائی وارننگ سسٹمز کے فعال ہونے سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔
کمیٹی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی گفتگو کی تاہم چیف سیکریٹری آزاد کشمیر کی مسلسل عدم حاضری کے باعث اس ایجنڈے کو مؤخر کر دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ وہ آئندہ اجلاس میں لازمی شرکت کریں
