turky-urdu-logo

سوویت یونین کی پسپائی کا دن

(شبیر احمد،لاہور) 15 فروری 1989، سرخ انقلاب نے شکست خوردگی کا جامہ زیب تن کیے اپنی راہ واپس لے لی۔ سابق سویت یونین کے عزائم نو سال میں پورے نہ ہوسکیں۔ یہ گرم پانی تک پہنچنے کی کوشش تھی یا جنوبی ایشاء کو سرخ رنگ میں رنگنے کا جذبہ، تاہم روسی ملکہ کیھترین کے خوابوں کی طرح یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

15 فروری1989 کوسابق سویت یونین کے انخلاء کا عمل مکمل ہوا۔ سویت یونین کے افواج نو سال سے زائد عرصے تک افغانستان پر قابض رہیں۔ 1979 کو سویت یونین کے فوجیوں نے افغان صدر حفیظ اللہ امین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ حفیظ اللہ امین اس لہر کے سامنے ٹھہر نہ سکیں اور دھڑام سے افغان حکومت گر گئی۔

کچھ لمحے بعد بذریعہ ریڈیو اعلان ہوا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ’پرچم‘ دھڑے کے ببرک کارمل کو اقتدار سونپ دیا گیا ہے اور یہ کہ روس نے انہی کی ایماء پر یہ قبضہ کیا ہے۔اس لمحے افغان حکومت اور سوویت یونین ایک طرف ہوگئیں جبکہ مجاہدین نے ان کے خلاف جہاد کا علم سنبھال لیا۔

امریکہ، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مغربی ممالک آخری دم تک افغان مجاہدین کی پشت پناہی کرتے رہیں۔ مجاہدین بھی اقتدار کی ہوس میں دھڑے بندیوں کا شکار ہوگئے۔ اس رویے نے روس کے قبضے کو طول دے دی۔ امریکہ اس پورے جنگ میں براہ راست شامل نہیں رہا۔ امریکہ نے محض ڈالرز اور اسلحے کے ذریعے پاکستان کے توسط سے افغان مجاہدین کی مدد کی۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ تب کیا جب پاکستان کی حمایت سے سوویت یونین کے غرور کا سر نیچا ہونا شروع ہوگیا تھا اور پھر پندرہ فروری 1989ء کا وہ تاریخی دن آگیا جب سوویت یونین نے اپنی شکست تسلیم کر کے افغانستان سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کا عمل مکمل کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

پاکستان کا قائدانہ کردار جنیوا اکارڈ میں بھی تسلیم کیا گیا جس پر سوویت یونین، امریکہ، افغانستان اور پاکستان نے دستخط کیے۔ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں نہ صرف وسط ایشیائی مسلمان ریاستوں سمیت متعدد ممالک آزاد ہوگئے بلکہ جرمنی کے دونوں حصے بھی ایک ہوگئے۔

Alkhidmat

Read Previous

صدر ایردوان کا دورہ مصر

Read Next

ترکیہ میں پاک ترک ڈیجیٹل ایکسپورٹ سمٹ کا انعقاد

Leave a Reply