تین بیٹوں اور شوہر کی لاش کے ساتھ تصویر

لبنان میں فلسطینی مہاجر کیمپت صابرہ اور شتیلا کے قتل عام کے 32 سال مکمل ہو گئے۔

آج کی دن اسرائیلی فوج نے ان دو کیمپوں میں شب خون مارا اور یہاں فسلطینیوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی۔

لبنان کے دو فلسطینی مہاجر کیمپ صابرہ اور شتیلا میں ہونے والی خونریزی کی یادیں قیامت تک یاد رہیں گی۔

اسرائیلی فوج نے صابرہ اور شتیلا کے مہاجر کیمپس میں قتل عام کیا جس میں 3500 فسلطینی شہید ہوئے۔

صابرہ اور شتیلا کے قتل عام میں زندہ بچ جانے والی خاتون اسرائیل، یو اے ای اور بحرین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف احتجاج میں تصویر لئے کھڑی ہے

یہ تصویر 16 ستمبر 1982 میں صابرہ اور شتیلا کی ہے جس میں یہ خاتون اپنے تین بیٹوں اور شوہر کی لاشوں کے پاس کھڑی ہے

Read Previous

استنبول کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

Read Next

ارطغرل غازی کی "گوگچی خاتون” نے سماجی فاصلے کا خیال نا رکھنے والوں کو جاہل قرار دے دیا۔

Leave a Reply