fbpx
ozIstanbul

ترک افطاری اور سحری کیسے کرتے ہیں؟

رواں سال ماہ رمضان کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس ماہ  یوری دنیا میں بسنے والے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ زکوة اور دیگر عبادات کا بڑھ چڑھ کر اہتمام کرتے ہیں۔

تمام مسلم ممالک کی طرح ترکی میں بھی اس ماہ کے حولے سے کچھ روایات ہیں جو یہاں رہنے والوں کے لیے اس ماہ کو مزید پرکشش اور یادگار بنا دیتیں ہیں۔

ترکوں کے لیے  رمضان کو رب کے خصور حاضر ہونے کے ساتھ ساتھ دوستوں اور رشتےداروں کے ہمراہ وقت گزارنے کا بھی نام ہے۔ اپنے اردگرد مستحق افراد کا خیال رکھنا  اور  لذید ترکش پکوان اس ماہ کی خصوصیات میں شامل ہیں۔

ترک سحر ی

سحری میں  روایتی ترکش ناشتہ دن بھر بھوکے رہنے کے باوجود  کمزروی کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ روایتی ترک ناشتہ آملیٹ ،مینیمن ( انڈے، ٹماٹر ، مرچ، پیاز، شملہ مرچ اور زیتوں کے تیل میں بنایاجاتا ہے)، ترک پنیر،  شہد، اچار، زیتون، کجھور، سبزیوں اور ڈبل روٹی پرمشتعمل ہوتا ہے۔ مزیدار اور غذائیت سے بھرپور  یہ ناشتہ ترکش چائے اور بہت سارےپانی کے ساتھ نوش کیا جاتا ہے۔

ترک افظار

شام کو سورج غروب ہونے کے بعد  جب خاندان کے تمام افراد ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوتے ہیں تو افظار کو لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ روایت ہے کہ افطار ایک کجھور اور پانی کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے بعد ترک ناشتے سے ملتا جلتا زیتون، ترک پنیر اور  رمضان پائیڈ  سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔

ترکش کافی، تازہ پھل اور سبزیاں بھی دستر خوان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چونکہ سوپ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اس لیے ترکوں کے لیے  افطار میں سوپ بہت اہمیت رکھتا ہے

سوپ کے ساتھ کھانا شروع کرنے سے دن بھر بھوکے پیاسے رہنے سے نمکیات کی کمی کو پورا کرنے  نظام ہاضم کو بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے۔  ترکوں کے پسندیدہ سوپ لوبیا کا سوپ، چاول، دہی اور پودینے کا سوپ دالوں اور آلو کا سوپ شامل ہے۔ یہ تمام سوپ ترکش پائیڈ کے ساتھ لیے جاتے ہیں۔

سوپ کے بعد زیتون کے تیل میں تیار کیے گئے پکوان جو کہ ترک کھانوں کا حصہ ہیں نوش کیے جاتے ہیں۔

مشہور پکوان میں  زیتون کے تیل میں تیار کردہ  رومانو پھلیاں ، ٹماٹر کی چٹنی میں پنٹو پھلیاں ، سبزیوں کے ساتھ ترکش اسٹائل فرشوف، بھرے ہوئے بینگن اور زیتون میں بنے بھنڈی ٹماٹر شامل ہیں۔ ان  سبزیوں کو بسا اوقات گوشت اور  ساسیج کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

روایتی ترک پکوان میں  سے سلطان ڈیلائٹ رمضان میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ دنبے کے گوشت سے بنی یہ ڈش بھونے ہوئے بینگنوں کے ساتھ سرو کی جاتی ہے۔ کوزو تندور  نامی ڈش بھی رمضان میں دستر خوان پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ دنبے کو ایک خاص قسم کے تندور میں تیار کیا جاتا ہے۔ دیگر مشہور پکوان میں دنبہ کباب، بھنی ہوئی سبزیاں، چکن روسٹ اور سفید چنا پلاو شامل ہیں۔

مشروبات

رمضان میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ترک افطار میں چائے یا کافی پانی کی جسکیوں کے ساتھ لینا پسند کرتے ہیں  یا پھر قومی مشروب ایرن (لسی) کا استعمال کیا جاتاہے۔ ترکوں نے وقت کے ساتھ کچھ نئے مشروب بھی اپنے دسترخوان کا حصہ بنائیں ہیں۔ جس میں شربت اور حوشحف زیادہ مقبول ہیں۔ شربت کو موسمی پھلوں ، پھولوں کی پتیوں اور جڑی بوٹیوں کو شکر اور دیگر مصالحوں کے ساتھ ابال کر تیار کیا جاتا ہے۔  عموما شربت کو گلاب کی پتیوں، صندل، لیموں، کنو، سیب اور  املی سے تیار کیا جاتا ہے۔

حوشحف  بنانے کے لیے مختلف قسم کے خشک میوہ جات، شکر، مصالحہ جات اور ڈھیر سارے پانی کو ایک ساتھ ابالا جاتا ہے۔ جب پھل نرم  ہوجاتے ہیں تو مشروب کو ٹھنڈا کر کے سرو کیا جا تاہے۔

دونوں مشروبات غذائیت سے  بھرپور  اور پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

پچھلا پڑھیں

پاکستانی تاجر امریکی جاسوس کو 12 سال قید کی سزا

اگلا پڑھیں

مساجد میں 30 منٹ سے زائد قیام کرنا ممنوع

2 Comments

  • ترک افراد زندہ دل لوگ ہیں۔ اور ان کے کھانے بھی کمال کے ہیںَ۔بہت ہی خوش خوراک قوم ہیں اور خوش اخلاق بھی

  • vGood

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے