turky-urdu-logo

ترکیہ میں ماہ رمضان کی چند مثالی اور قابل تقلید روایات

تحریر : اسلم بھٹی

رمضان ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا اجر ستر گناہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر اس ماہ مبارک کو ” نیکیوں کا موسم بہار ” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ دنیا بھر کے مسلمان اس ماہ مبارک میں جی بھر کر نیکیاں اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکے۔

مسلمان روزے رکھ کر ، عبادت کر کے ، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآنِ مجید کے زریعے اس ماہ مبارک سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ افطاریوں کا اہتمام کرنا، راشن بانٹنا ، غریبوں، فقیروں یتیموں، مساکین، مسافروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا، زکوٰۃ و خیرات ، فطرانہ ، صدقہ وغیرہ ادا کرنا وہ اعمال ہیں جو اس ماہ میں کثرت سے کیے جاتے ہیں۔

ترکیہ میں رمضان کے مہینے میں ایک بڑی خوبصورت ، سنہری اور مثالی روایت ہے کہ عام طور پر متمول اور مالی طور پر آسودہ لوگ اپنے علاقے،قصبے یا شہر کے نسبتاً غریب علاقوں اور آبادیوں کی پرچون کی دکانوں اور جنرل سٹورز پر جا کر وہاں ادھار کے رجسٹر اور کاپی کو دیکھتے ہیں اور دکاندار سے ان ادھار لینے والے غریب اور نادار لوگوں کی فہرست طلب کرتے ہیں جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کافی عرصے سے اپنا ادھار نہ چکا سکے ہوں۔ دکاندار ان کو وہ ادھار کے رجسٹر یا کاپی دکھاتا ہے جس پر ادھار کے سامان کی فہرست اور قیمتیں درج ہوتی ہیں۔ دوکاندار حساب کتاب کر کے اس اجنبی متمول شخص کو تفصیلات فراہم کر دیتا ہے۔ یہ اجنبی شخص اپنی جیب سے وہ واجبات ادا کر دیتا ہے۔ جتنا ادھار لینے والے کے کھاتے میں ادھار کی رقم ہوتی ہے وہ اپنی جیب سے ادا کر کے چلا جاتا ہے۔ اس طریقے سے نہ ادھار لینے والے کو ، نہ دکاندار کو اور نہ ادھار کی رقم ادا کرنے والے متمول شخص کو ایک دوسرے کا پتہ چلتا ہے اور یوں خفیہ طور پر ضرورت مندوں کی مدد ہو جاتی ہے۔
یہ روایت سلطنت عثمانیہ کے دور حکومت سے ترکیہ میں کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے اور ابھی تک موجود ہے۔

اسی طرح سلطنت عثمانیہ اور ترکیہ میں ایک اور بڑی مثالی روایت رہی ہے کہ خاص طور پر رمضان کے دوران مسجدوں، قبرستانوں اور دیگر اجتماعی جگہوں پر بہت بڑا پتھر یا بوکس رکھا ہوتا ہے جس کے نیچے خالی جگہ ہوتی ہے ۔ اسے ” صدقے کا پتھر ” یا ” صدقہ بوکس” کہا جاتا ہے ۔ اس پتھر یا بوکس میں مالی طور پر آسودہ لوگ اپنے صدقے، خیرات ، زکوٰۃ اور فطرانہ کے پیسے رکھ جاتے ہیں اور جو ضرورت مند ہوتے ہیں وہ وہاں آ کر پیسے لے جاتے ہیں۔
یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ ضرورت مند بھی اتنی ہی رقم یہاں سے سے لے جاتے ہیں جتنی ان کو ضرورت ہوتی ہے ۔
اس طرح ناداروں، فقراء اور مساکین کی عزت نفس کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی معاشرے کے ضرورت مندوں کی ضروریات کو جان کر ان کی حتیٰ الامکان مدد کی جاتی ہے ۔ ترک ایک مدد پسند قوم ہے اور وہ مشکل میں لوگوں کے کام آنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

کھاتے پیتے لوگوں کے علاوہ حکومتی ادارے بھی بڑھ چڑھ کر اچھے کاموں میں حصہ لیتے ہیں ۔ ضرورت مندوں کے گھروں میں رمضان کا راشن فراہم کرتے ہیں۔ عید سے قبل کپڑے جوتے اور دیگر تحائف ضرورت مندوں کو پہنچاتے ہی۔ یہی نہیں بلکہ یہ ادارے دیگر ممالک جیسے فلسطین، برما ، افغانستان ،عراق، صومالیہ اور ان جیسے دیگر ممالک میں عید کے تحائف اور افطاری کا وسیع پیمانے پر اہتمام کرتے ہیں۔

Alkhidmat

Read Previous

ترکیہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، فرحتین آلتون

Read Next

ترکیہ اقوام متحدہ کے جنگ بندی کے فیصلے کے بعد اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیےاپنی کوششیں جاری رکھے گا،صدر ایردوان

Leave a Reply