فلسطینی تنظیموں نے اختلافات ختم کر کے متحد ہو کر مختلف ممالک سے رابطے شروع کر دیئے

(L to R) Deputy Secretary-General of the Popular Front for the Liberation of Palestine (PFLP) Abu Ahmad Fuad, Assistant Secretary-General of the Popular Front for the Liberation of Palestine-General Command (PFLP-GC) Talal Naji, Secretary-General of the Islamic Jihad Movement in Palestine Ziad al-Nakhala, Hamas chief Ismail Haniyeh, and Deputy Secretary-General of the Democratic Front for the Liberation of Palestine (DFLP) Fahd Suleiman attend a meeting with representatives of other Palestinian factions at the Palestinian embassy in Lebanon’s capital Beirut on September 3, 2020, in rare talks on how to respond to such accords and to a Middle East peace plan announced by Washington this year. – The meeting in Beirut is joined by video conference with talks in Ramallah between Palestinian president Mahmud Abbas and representatives of Palestinian factions there. Haniyeh’s visit, his first to Lebanon in 27 years, comes after an August 13 announcement that the Jewish state and the United Arab Emirates have agreed to normalise ties. (Photo by ANWAR AMRO / AFP) (Photo by ANWAR AMRO/AFP via Getty Images)

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کے بعد فلسطینی عوام کی آنکھیں کھلنا شروع ہو گئیں ہیں اور اب وہ عرب ممالک سے مایوس ہونے کے بعد دیگر اسلامی ممالک کے رہنماوٗں سے رابطے بڑھا رہے ہیں۔

حماس اور فتح کے رہنماوٗں نے ترکی، قطر، بیروت اور ایران کے صدور سے ملاقاتیں کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ فلسطین کی آزادی کی تحریک کو سیاسی طور پر دوبارہ منظر عام پر لایا جائے۔

اسی سلسلے میں حماس اور فتح کے رہنماوٗں کا ایک اہم اجلاس اس ہفت ترکی میں ہوا جس میں دونوں تنظیموں نے اپنے اختلافات ختم کر کے مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کا فیصلہ کیا۔

اس ہفتے کے شروع میں فلسطینی صدر محمود عباس نے ترک صدر طیب ایردوان سے فون پر بات کی اور فلسطین کے موقف کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں رہنما پچھلے کئی ہفتوں سے رابطوں میں ہیں جس میں خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال اور امریکی دباوٗ پر بات ہوئی۔

22 اگست کو حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے ترک صدر ایردوان سے استنبول میں ملاقات کی تھی۔

21 ستمبر کو فتح کی سینٹرل کمیٹی کے سیکریٹری جبریل رجوب نے اسماعیل ہنیہ اور ان کے نائب صالح العروری سے ملاقاتیں کیں اور فلسطینیوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو دور کرنے پر بات ہوئی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا قبضہ سے فلسطین پر ایسا زخم ہے جس سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ اسرائیل یروشلم کے مقدس مقامات کی توہین کر رہا ہے۔

فلسطینیوں کو اب یہ بات سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ امریکی دباوٗ کے باعث اب عرب دنیا فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے گی۔ اب عرب ممالک فلسطین کی سیاسی اور مالی مدد سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔

اسی لئے فلسطینی تنظیموں نے خطے کی بااثر ریاستوں ترکی اور قطر کے ساتھ رابطے تیز کر دیئے ہیں۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔

18 ستمبر کو قطر نے فلسطینی صدر محمود عباس کے خصوصی نمائندے نبیل شتھ کے ساتھ ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ دوہا فلسطینیوں کی مالی معاونت کرنے کو تیار ہے۔

حالیہ کچھ دنوں میں فسلطینی صدر محمود عباس، اسماعیل ہنیہ اور حماس کے رہنما خالد مشعل مسلسل رابطوں میں ہیں۔

فلسطینی مصر اور سعودی عرب سے بھی کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے یو اے ای اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہیں کسی فلسطینی تنظیم یا فلسطینی حکومت نے ان دونوں ممالک سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

Read Previous

گالسترائے کلب نے یو ای ایف اے یورپا لیگ میں پلے آف رونڈ کے لیے کوالیفائے کرلیا

Read Next

اسرائیلی وزیراعظم اپنے گندے کپڑے وہائٹ ہاوٗس کی لانڈری سے دھلواتے ہیں

Leave a Reply