اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ادارے نے صرف دوسری سہ ماہی کے دوران 2.452 ٹریلین روپے کی براہِ راست اور بالواسطہ ریکوریز کیں، جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی ریکوریز 5.414 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہیں، جو نیب کی تاریخ کی بلند ترین ششماہی کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔
نیب کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 78 ہزار 283 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق نیب سکھر نے سب سے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے محکمہ جنگلات، این ایچ اے اور آبپاشی کی 8 لاکھ 53 ہزار 678 ایکڑ زمین، جس کی مالیت 1.01 ٹریلین روپے ہے، حکومت سندھ کے نام منتقل کرائی۔
نیب بلوچستان نے 2 لاکھ 9 ہزار 544 ایکڑ سرکاری و جنگلاتی اراضی، جس میں ہنگول نیشنل پارک اور گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GIEDA) کی زمین بھی شامل ہے، واگزار کرائی جس کی مالیت 604.64 ارب روپے بتائی گئی۔
اسی طرح نیب کراچی نے 11 ہزار 422 ایکڑ غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی سرکاری زمین، مالیت 467.11 ارب روپے، جبکہ نیب لاہور نے 1,909 ایکڑ زمین، مالیت 288.29 ارب روپے، اور نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے 810 ایکڑ زمین، مالیت 66.63 ارب روپے، واگزار کرائی۔
نیب ملتان نے بھی 920 ایکڑ سرکاری اراضی، مالیت 2.76 ارب روپے، واپس حاصل کرنے کی اطلاع دی۔
ادارے کے مطابق ہاؤسنگ اور مالیاتی فراڈ کے مقدمات میں 24 ہزار 365 متاثرین کو 42.303 ارب روپے مالیت کی رقوم اور اثاثے واپس دلوائے گئے۔
نیب نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ادارہ مکمل طور پر پیپر لیس ای آفس سسٹم پر منتقل ہو چکا ہے اور اب مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی E-Investigation نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مشین لرننگ کی مدد سے مشکوک پیٹرنز کی نشاندہی، ہائی رسک کیسز کی ترجیحی بنیادوں پر جانچ، شواہد کا خودکار تجزیہ اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ڈیجیٹل شہادتوں کا نظام قائم کیا جائے گا۔
نیب کے مطابق پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ احتسابی نظام میں جدید مہارتوں اور تربیت کو فروغ دیا جا سکے۔
نیب نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ کرپشن کے خاتمے، لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی اور شفاف و جوابدہ طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گا۔
