turky-urdu-logo

قارا گوز اور حاجی وات

تحریر : اسلم بھٹی

قارا گوز اور حاجی وات دو تاریخی شخصیات ، فنی اور مزاحیہ کردار ہیں جو عثمانی دور سے اب تک دنیا میں مشہور ہیں ۔ یہ شخصیات اور کردار صدیوں سے پتلی تماشے، تھیٹر اور شیڈو پلے کے طور پر ترکیہ اور دیگر ممالک میں سٹیج پر پیش کئیے جاتے رہے ہیں۔

دراصل یہ مشابہت اور باہمی گفتگو پر مبنی ایک شیڈو پلے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں جو 2 جہتی عکاسی کے ساتھ اسکرین پر چلائے جاتے ہیں۔

قارا گوز اور حاجی وات کے بارے میں تاریخ میں مختلف روایات موجود ہیں۔ یہ یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ آیا کہ یہ شخصیات و کردار واقعی موجود تھے یا نہیں اور اگر تھے تو وہ کہاں اور کیا کرتے تھے ۔

قارا گوز اور حاجی وات کے بارے میں سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ عثمانی سلطان اورحان غازی کے دور میں موجود قارا گوز ایک لوہار تھا اور حاجی وات ایک مستری اور معمار تھا۔ انہوں نے برصہ شہر میں ایک مسجد کی تعمیر میں کام کیا۔

ایک دوسری روایت کے مطابق حاجی ایواز آغا یا حاجی وات اور قارا گوز تھریس کے سماکول گاؤں میں رہتے تھے ۔ ان میں ایک لوہار اور دوسرا مستری تھا ۔ دونوں نے سلطان اورحان غازی کے حکم سے برصہ شہر میں تعمیر کی جانے والی ایک مسجد میں بطور مزدور کے کام کیا۔ یعنی یہ دونوں مزدور تھے۔ جو برصہ شہر میں موجود تھے۔یہ دونوں کام چور اور باتونی تھے اور نہ خود کام کرتے تھے اور نہ دوسرے کام کرنے والے مزدوروں کو کام کرنے دیتے تھے۔ ہر وقت فضول بحث ، جملہ بازی اور گفتگو میں مشغول رہتے ۔ یوں وقت گزرتا گیا اور مسجد کی تعمیر جوں کی تو رہی اور وقت پر مکمل نہ ہوئی۔ آہستہ آہستہ ان کی کام چوری اور فضول وقت ضائع کرنے کی کہانی سلطان اور حان غازی تک بھی جا پہنچی جو سخت ناراض ہوا اور یہ حکم صادر فرمایا :

” اگر مسجد وقت پر مکمل نہ ہوئی تو میں آپ کا سر قلم کر دوں گا ” ۔

سلطان کے حکم کے باوجود دونوں نے کاہلی اور سستی جاری رکھی اور نتیجتاً مسجد اپنے وقت پر مکمل نہ ہو سکی۔ لوگوں نے ان کی دوبارہ شکایت سلطان اورحان غازی کے سامنے کی تو سلطان نے ان کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا ۔ دونوں کا سر قلم کر دیا گیا۔

شیخ قشتری جو قارا گوز اور حاجی وات کے دوست تھے اور ان سے بہت پیار کرتے تھے وہ ان کی موت سے بہت غمگین ہوئے ۔انہوں نے ان کی موت کے بعد ان سے مشابہہ کٹھ پتلیاں بنائیں اور انہیں پردے کے پیچھے منتقل کر کے کٹھ پُتلی شو شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ یہ روایت پھیلتی گئی اور عثمانی سلطنت کے مختلف علاقوں اور شہروں میں بطور کھیل اور تفریح کے پیش کی جانے لگی۔ اس طرح قارا گوز اور حاجی وات سلطنت عثمانیہ کے طول و عرض میں جانے پہچانے کردار بنتے گئے۔

قارا گوز اور حاجی وات شو یا کھیل چار حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں:

• ابتدائیہ یا تعارف
• بات چیت یا گفتگو
• کھیل
* اختتام

قارا گوز اور حاجی وات پتلی نما تماشے یا کھیل کے اس حصے میں جسے تعارف کہا جاتا ہے، سب سے پہلے شو کو اسکرین پر منعکس کیا جاتا ہے۔ شروع میں اکثر ایسی تصاویر ہوتی ہے جس کا کھیل کے مواد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے جیسے کہ درخت ، کشتی، بلیاں اور براق وغیرہ۔ تصویر کو موسیقی کے ساتھ اسکرین پر پیش کرکے ناظرین کی توجہ ڈرامے اور اسکرین کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔ دونوں کرداروں کے درمیان گفتگو اور بحث کا آغاز ہوتا ہے ۔کھیل کا اہم اور مرکزی حصہ پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کھیل یا پتلی نما تماشے کا اختتام ہوتا ہے۔ اختتام میں تفریح کے ساتھ ساتھ کوئی اخلاقی سبق بھی دیا جاتا ہے۔

قارا گوز اور حاجی وات شو آج بھی ترکیہ کے طول و عرض میں مقبول تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ بچے ، نوجوان اور بوڑھے سب دلچسپی سے اسے دیکھتے ہیں۔ یہ کھیل یا شو نہ صرف ترکیہ بلکہ یونان اور بلقانی ریاستوں کے علاوہ وسطی ایشیا میں بھی مقبول ہیں۔

قارا گوز اور حاجی وات کا کھیل یا شو اپنی جگہ ایک مقبول تفریح کا سامان فراہم کرتا ہے تا ہم اس کے ساتھ ساتھ ان کی سوانح اور ان کی تاریخ اور کردار کو پڑھ کر انسان کو سبق حاصل کرنا چاہیے کہ جو لوگ کاہلی اور سستی سے کام لیتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ قارا گوز اور حاجی وات کے کرداروں کے اس پہلو کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔

Alkhidmat

Read Previous

یروشلم کی حفاظت کا مطلب انسانیت اور امن کا دفاع ہے،صدر ایردوان

Read Next

ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر کی نیلسن منڈیلا کے پوتے سے ملاقات

Leave a Reply