قطر میں ترک فوج کی موجودگی خطے میں امن کی ضمانت ہے، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ قطر میں ترک فوج کی موجودگی خطے میں امن اور استحکام کے لئے ضروری ہے۔

اپنے دورہ قطر میں ایک قطری اخبار دی پیننسولہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ کچھ ممالک خلیج میں ترکی اور ترک فوج کی موجودگی پر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کسی بھی ملک کی زمین پر قبضہ کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور نہ ہی خانہ جنگی سے متاثر شام میں کسی طرح کے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا جیسے ہی شام میں حالات بہتر ہو جائیں گے ترکی اپنی فوجیں وہاں سے فوری نکال لے گا۔

ترکی نے 2016 میں شام کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف تین آپریشن شروع کئے تھے۔ ان میں ایمفریٹس شیلڈ آپریشن 2016، اولیو برانچ 2018 اور پیس سپرنگ آپریشن 2019 میں شروع کیا تھا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ لیبیا میں ترکی صرف اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکورڈ کو تسلیم کرتا ہے۔ باغی ملیشیا کو کسی صورت قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ واضح رہے کہ لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2011 سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک لاکھوں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مشرقی بحیرہ روم تنازعے پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ گڑبڑ کرنے والے ممالک کو اندازہ ہو چکا ہے کہ ترکی کے ساتھ جنگ جیتنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے انہوں نے سازشوں کا ایک جال پھیلانا شروع کر دیا ہے جس میں وہ بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ کھوکھلے دعووٗں کے ساتھ صرف لفظی جنگ پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں لیکن اس کے باوجود ترکی نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی دعوت دی ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی امریکہ کے ساتھ تمام پلیٹ فارمز پر مشترکہ طور پر کام کرنا چاہتا ہے خاص طور پر نیٹو کے اتحادی ملک کی حیثیت سے۔ ترکی دہشت گردی اور تنازعات کے خاتمے کے ساتھ اپنے ہمسایہ ممالک میں جمہوریت کو پروان چڑھتے دیکھنا چاہتا ہے۔ نیگورنو کاراباخ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ آرمینیا کو ترکی پر جنگ میں ملوث ہونے کا الزام دراصل اس کی شکست اور مایوسی کو واضح کرتا ہے۔

Read Previous

قطر نے بھی جدید امریکی جنگی طیارے ایف 35 خریدنے کی درخواست دے دی

Read Next

ترک قبرص نے 46 سال سے بند ماراش ٹاوٗن تک رسائی کا راستہ کھول دیا

Leave a Reply