turky-urdu-logo

علاقائی تعلقات کی مضبوطی کے لیے صدر ایردوان کا خلیجی ریاستوں کا تین روزہ دورہ

صدر ایردوان علاقائی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے خلیجی ریاستوں کے دورے پر ہیں۔

صدر ایردوان اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے سلسلے میں سعودیہ عرب پہنچ چکے ہیں۔

جدہ کے ہوائی اڈے پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور دیگر حکام نے صدر ایردوان کا استقبال کیا۔


صدر کے ہمراہ ان کی کابینہ کے ارکان اور دیگر ترک حکام بھی ہیں۔


صدر ایردوان کا استقبال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک سرکاری تقریب میں کیا۔
دونوں رہنما السلام محل کے میدان میں پہنچے تو ترکیہ اور سعودی عرب کے قومی ترانے بجائے گئے اور صدر ایردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

معاہدے:


استقبالیہ تقریب کے بعد صدر ایردوان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنی دو طرفہ ملاقات کے لیے السلام پیلس چلے گئے۔

وفود کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

ترکیہ اور سعودی عرب نے سرمایہ کاری، دفاعی صنعت، توانائی اور مواصلات سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔

ٹوگ کار کا تحفہ:

صدر ایردوان نے اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ترکیہ کی جدید الیکٹرک کارٹوگ تحفے میں دی، ولی عہد نے صدر ایردوان کے ساتھ ٹیسٹ ڈرائیو بھی کی، ولی عہد نے گاڑی کے تحفے پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا.

سعودی عرب کے بعد صدر ایردوان بالترتیب قطر اور متحدہ عرب امارات جائیں گے۔

قبل ازیں خلیجی دورے پر جانے سے قبل استنبول میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ترکیہ کے سفارتی تعلقات 1929 میں قائم ہوئے تھے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم باہمی تعاون میں توسیع لا کر ان تعلقات کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں ۔

ترک صدر نے کہا کہ خطے کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہونے کے ناطے سعودی عرب تجارت، سرمایہ کاری اور کنٹریکٹنگ سروسز جیسے شعبوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں سعودی عرب میں ہمارے کنٹریکٹرز کی طرف سے شروع کیے گئے منصوبوں کی مالیت تقریباً 25 بلین ڈالر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ترک کمپنیاں سعودی عرب کے بڑے پیمانے پر منصوبوں میں زیادہ کردار ادا کریں۔

Alkhidmat

Read Previous

The top dating websites worldwide

Read Next

ترک ڈرون بنانے والی کمپنی نے سعودی عرب کے ساتھ بڑے برآمدی معاہدے پر دستخط کر لیے

Leave a Reply