turky-urdu-logo

چناق قلعہ کی فتح

تحریر : اسلم بھٹی

ترکیہ بھر میں 18 مارچ کو چناق قلعہ کی فتح کا دن منایا جاتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران 1915ء میں اس دن اتحادی فوجوں کے خلاف چناق قلعہ اور گیلی پولی کے محاذ پر تقریباً 250,000 ترک فوجیوں ، بزرگوں ، نوجوانوں حتیٰ کہ عورتوں نے مادر وطن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمنوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرکے میدان جنگ میں شکست سے دوچار کر دیا۔ شدید بھاری نقصان اٹھانے کے بعد زخم خوردہ دشمن تقریباً 252,000 نعشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

یہ دن ترکیہ کی آزادی کے شہدائے کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا لیکن مادر وطن پر آنچ تک نہ آنے دی۔ اس دن ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کی یاد میں دعائیہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

چناق قلعہ ترکیہ کا ایک ساحلی شہر اور بندرگاہ ہے جو صوبہ چناق قلعہ میں درہ دانیال کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔

پہلی جنگ عظیم 18-1914ء کے دوران یہ علاقہ جنگ کا مرکز تھا۔ یہاں سے اتحادی فوجیں درہ دانیال میں داخل ہو کر خلیج باسفورس تک پہنچ کر استنبول پر قابض ہونا چاہتی تھیں جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا مرکز تھا۔ تاہم یہاں ان کا سامنا ترک فوجوں اور مقامی ترک باشندوں سے ہوا اور یوں یہاں گھمسان کی جنگ چھڑ گئی۔ فرانس ، آسٹریلیا ، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کی فوجیں جدید اسلحے سے لیس تھیں ۔ ان کے پاس بحری بیڑے اور توپوں کے ساتھ ساتھ گولا بارود کی وافر مقدار موجود تھی۔ بحری فوج کے ساتھ ساتھ بری فوج کے بھی دستے موجود تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ چناق قلعہ کا یہ محاذ پہلی جنگ عظیم کے دوران سب سے بڑے جنگی محازوں میں سے ایک تھا تو بے جا نہ ہوگا۔

اتحادی فوجوں کو توقع نہیں تھی کہ انہیں یہاں اس طرح سخت اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مصطفٰی کمال اتاترک، اس کی افواج اور نوجوان ترکوں کے ساتھ ساتھ مقامی باشندوں نے بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو اپنی سرزمین پر قدم نہ رکھنے دیے۔ کئی ماہ تک یہ لڑائی جاری رہی۔ آخرکار اتحادی فوجوں کو پسپا ہونا پڑا کیونکہ انہیں خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ وہ یہاں اپنے نقصان کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ لہذا بھاری نقصان کے بعد بیشمار نعشیں ، زخمی ساتھیوں اور اسلحہ اور بارود چھوڑ کر وہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کر گئے۔

یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کی فوج میں اس وقت کے محکوم ہندوستان سے بہت سے ہندوستانی فوجی بھی شامل تھے جن میں کچھ مسلمان فوجی بھی تھے جنہیں لالچ اور دھوکہ دے کر یہاں میدان جنگ میں لڑنے کے لیے لایا گیا تھا ۔ تاہم جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ دوسری طرف ان کے مسلمان بھائی ترک ہیں اور اس دوران جب انہوں نے دوسری طرف سے اذان کی آواز سنی تو انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ بہت سے ہندوستانی مسلمان فوجی دوسری طرف جا کر ترک افواج کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے اتحادی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان میں تحریک خلافت کے نام سے ایک بہت بڑی تحریک چلی جس نے ترکیہ کی آزادی کے لیے نہ صرف چندہ جمع کیا بلکہ یہاں سے ڈاکٹروں ، نرسوں اور نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ان جنگی محازوں پر ترک افواج کے شانہ بشانہ لڑی اور ان کی جنگ آزادی میں ہر ممکن مدد کی جسے ترک آج تک نہیں بھول سکے۔
چناق قلعہ کی فتوحات اور کامیابی کی خبریں تواتر سے ہندوستان کے اخبارات میں شائع ہوتی رہیں جنہیں یہاں کے مقامی مسلمان بڑی دلچسپی سے پڑھتے رہے اور ترکوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔

چناق قلعہ کی فتح نے ترکیہ کی آزادی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اگر اس محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ نہ کیا جاتا تو آج ترکیہ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

ہر سال 18 مارچ کو ترک قوم اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنے جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کرے گی اور ہر ممکن طریقے سے اپنے وطن کی حفاظت کو یقینی بنائیں گی چاھے انہیں اس کے لیے کتنی بڑی قربانی دینا پڑے وہ اس سے گریز نہیں کریں گے۔

Alkhidmat

Read Previous

وزیر خارجہ حاقان فیدان کا اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ,وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

Read Next

یوم شہدا اور فتح چناق قلعے کے موقع پر صدر ایردوان کا پیغام

Leave a Reply