آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، ترکی

ترکی کے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے  آذربائیجان کے اپنے ہم منصب جیون بیراموف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ترکی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

دونوں رہنماوٗں کے درمیان رابطے میں ماسکو میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس پر بات چیت ہوئی۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکون کے درمیان جنگ بندی اہم ہے لیکن تنازعہ صرف اسی صورت حل ہو سکتا ہے جب آرمینیا مقبوضہ علاقے خالی کر دے گا۔

ادھر ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے بھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترکی اپنے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کا میدان جنگ اور مذاکرات کی میز دونوں جگہ دفاع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں اور مارے جانے والے فوجیوں کی لاشوں کے تبادلے کے لئے جنگ بندی ایک اہم فیصلہ ہے لیکن اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازعہ حل نہیں ہو سکتا۔

حامی اکسوئے نے کہا کہ ترکی کا پہلے دن سے ایک ہی موقف ہے کہ جس فیصلے کی آذربائیجان حمایت کرے گا ترکی کو بھی وہی فیصلہ منطور ہو گا۔ اسی موقف کے ساتھ ترکی اپنے برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان آج رات سے جنگ بندی شروع ہو چکی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آذربائیجان نے آرمینیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے مقبوضہ علاقے واپس لینے کے لئے اپنے ذرائع اور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے۔

Read Previous

نیویارک میں پاکستان کا ملکیتی روزویلٹ ہوٹل ایک صدی بعد بند

Read Next

ترکی نے پہلی بار انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کرنے کا فیصلہ کر لیا

Leave a Reply