fbpx

کورونا وائرس: تُرکی میں تین دن کیلئے دوبارہ کرفیو نافذ کیا جائے گا

حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آئندہ ہفتے مزید تین دن کیلئے کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 17 سے 19 اپریل تک تین دن کیلئے دوبارہ کرفیو نافذ کیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ صدر طیب اردوان کی زیر صدارت کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں وزراء نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔

صدر اردوان نے کہا کہ تُرک شہریوں کی زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کورونا وائرس کا خطرہ دنیا بھر میں منڈلا رہا ہے۔ حکومت شہریوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 اپریل میں نصف شب سے 19 اپریل تک تین دن کیلئے کرفیو دوبارہ نافذ کیا جائے گا۔

سرکاری محکموں سے کہا گیا ہے کہ کرفیو شروع ہونے سے پہلے عوام کو اشیائے خورد و نوش کی فراہمی سے متعلق تمام انتظامات مکمل کئے جائیں۔ اجناس کی ہول سیل مارکیٹوں سے مصنوعات کی ریٹیل مارکیٹ تک سپلائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ پچھلی بار کے کرفیو سے پیدا ہونے والی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو سکے۔ پچھلے ہفتے جب حکومت نے اچانک کرفیو نافذ کیا تھا تو عوام کو اشیائے خورد و نوش کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کرفیو نافذ کرنے کے بارے میں پہلے سے اطلاع نہ دینے پر شدید تنقید کے بعد وزیر داخلہ سلیمان سولو نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم صدر طیب اردوان نے استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔

کابینہ اجلاس کے بعد صدر اردوان نے وزیر داخلہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وزیر داخلہ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ لہذا ان کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کو کہا گیا ہے۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپنی حکومت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے صدر طیب اردوان نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں تُرکی نے وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے مؤثر پالیسیاں بنائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کے لحاظ سے تُرکی دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اب تُرکی میں وائرس کے پوزیٹو کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ترکی میں وائرس سے اموات کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔ عالمی تنظیموں نے وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے تُرک حکومت کی کوششوں کو سراہا ہے۔

کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 15 مئی سے ملک بھر کے اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس کی تعداد 456 ہو جائے گی۔ صدر اردوان نے کہا کہ تُرکی میں ہر ایک لاکھ افراد کیلئے 50 آئی سی یو بیڈز ہیں جبکہ یورپ میں یہ تناسب 12 ہے۔ ترکی میں کورونا وائرس سے اب تک 1296 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کنفرم کیسز میں 511 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

کورونا وائرس سے جنوبی ایشیا کی 40 سالہ معاشی ترقی خطرے میں پڑ گئی

اگلا پڑھیں

کورونا وائرس کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، 92 سالہ خاتون نے وائرس کو شکست دے دی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے