turky-urdu-logo

رمضان کے مقدس مہینے میں غزہ کی زیادہ سے زیادہ حمایت اور مدد کرنا ہمارا اولین فرض ہے،صدر ایردوان

گیریسون میں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کا قتل عام بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیل جو غزہ کے عوام کی مزاحمت اور عزم کو بموں کے ذریعے توڑ نہیں سکتا، انہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے بھوکا مار رہا ہے۔

ہمارا مقصد فوری جنگ بندی کا قیام اور غزہ تک انسانی امداد کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے ۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ترکیہ  ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ بحیرہ اسود کے دوسری طرف ہمارے دونوں پڑوسیوں کے درمیان جنگ کو دو سال ہو گئے ہیں۔ روس اور یوکرین جنگ میں اب تک دسیوں ہزار لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، دسیوں ہزار زخمی اور لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترکیہ نے روس اور یوکرین کے بحران میں آگ میں ایندھن ڈالنے کے بجائے اپنے تمام ذرائع سے آگ بجھانے کے لیے کام کیا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ نے جنگ میں مصروف ہونے کے باوجود خود کو جنگ میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دی۔

انکا کہنا تھا کہ ہم نے کامیابی سے منصوبہ بندی کی ہے اور اپنی تمام چالوں کو شطرنج کے ماسٹر کی طرح انجام دیا ہے۔

لہٰذا، ہم اپنے شہریوں کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر ترکیہ کو ایک انتہائی خطرناک عمل سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

آج بھی ہم اپنے تمام اقدامات ترکیہ کے محورکے مطابق کرتے ہیں اور اپنی قوم اور ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ جبکہ بحیرہ اسود سے مشرق وسطیٰ تک ہمارا خطہ آگ کے مکمل دائرے میں تبدیل ہو چکا ہے، ہم نئی دشمنیوں یا تناؤ کو ابھرنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

میں کھل کربات کروں تو  غیر ملکی سفارت کاری میں ہمارا صرف ایک مقصد ہے، وہ ہے اپنے دوستوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا۔

اگر ہم ترکیہ کی صدی کو بھی امن کی صدی بنانا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس دوست اور برادر ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو بڑھانے کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہے۔

اگر ہم سامراجی طاقتوں کے اپنے خطے کو نشانہ بنانے والے منظرناموں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر بندھن باندھنا ہوگا۔

ہمیں اختلاف رائے کو طے کرنے کے بجائے تعاون کے شعبوں پر توجہ دینی ہوگی۔

ہم سب کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اتحاد کے بغیر خوشحالی نہیں ہے۔

اگر ہم غزہ میں خونریزی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کے قتل عام کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ صف بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور مصر کے ہمارے دورے بہت کامیاب رہے۔ ہم نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ فلسطین کے مسئلے کے ساتھ ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکیہ نے 7 اکتوبر سے اب تک 34 ہزار ٹن سے زیادہ انسانی امدادی سامان خطے میں بھیجا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ مصری حکام کے ساتھ مل کر علاقے میں امدادی سامان بھیجا گیا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قتل عام کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے قتل عام میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اسرائیل جو غزہ کے عوام کی مزاحمت اور عزم کو بموں کے ذریعے توڑ نہیں سکتا، انہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے  مجبور کرنے کے لیے بھوکا مار رہا ہے۔

ہمارا مقصد فوری جنگ بندی کا قیام اور غزہ تک انسانی امداد کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے ۔

رمضان کے مقدس مہینے میں غزہ کی زیادہ سے زیادہ حمایت اور مدد کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔

 

Alkhidmat

Read Previous

ہمارا بنیادی مقصد ایک مضبوط اقتصادی انفراسٹرکچر بنانا ہے،صدر ایردوان

Read Next

ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین 21 سرکاری اور تجارتی معاہدے طے

Leave a Reply